Video:
میرا میڈیا ٹرائل بھی ہوا اور عدالتی ٹرائل بھی ہوا، میرے خلاف جس نے بھی جو بھی کہا میں اُس کو معاف کرتا ہوں۔ میں گالی کا کلچر ختم کرنے کا طریقہ سکھانا چاہتا ہوں۔
کبھی کہا گیا کہ ان کے پیچھے امریکہ ہے اور کبھی اس طرح کے دیگر الزامات لگائے گئے، میں نے پہلے دن کہا تھا کہ میرے پیچھے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
کبھی پوچھا جاتا ہے کہ ان جلسوں کے فنڈ کہاں سے آتے ہیں ؟ ؟ ؟ اس کا جواب کئی دفعہ دے چکا ہوں لیکن آج مختلف جواب دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تُم ان 4 جلسوں کے فنڈز کی بات کرتے ہو، میں تمھیں ایک سال کے اندر پاکستان کے تمام قرضے (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، پیرس کلب) ختم کروا کے دے سکتا ہوں۔
الیکشن کمیشن چونکہ غیر آئینی تھا اور غیر آئینی ہے، اب ایسے الیکشن کمیشن سے شفاف انتخابات کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ جس ادارے کا اپنا وجود شفاف طریقہ سے تشکیل نہیں پایا اس سے شفاف انتخابات کروانے کی کیسے امید کی جا سکتی ہے۔
دوہری شہریت کا حامل آدمی غیر آئینی کمیشن کے خلاف کیس دائر کرے تو اس کی وفاداری مشکوک جب کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ دہری شہریت کا حامل آدمی ملک کا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے۔ (دو رنگی چھوڑ دے، یک رنگ ہو جا)
میں نے 32 سال پاکستانی قوم کی بے لوث خدمت کی ہے، ہمارے کردار اور دوسرے لیڈروں کے کردار میں واضح فرق ہے۔ وہ جب بیرون ملک جاتے ہیں تو وہ 7 سٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں اور وہاں موجودگی کے دوران ان کے دھندے ایسے ہوتے ہیں جن کا زبان سے ذکر کرنے سے بھی زبان پلید ہوتی ہے۔ میں نے 32 سال دنیا بھر میں سفر کیا ہے ہوٹلنگ نہیں کی اور اپنے کارکنان کے گھروں پر قیام کرنے کو ترجیح دی۔
میں نے 32 سال میں اپنے کارکنان کے فنڈ سے کبھی ذاتی فائدہ نہیں اُٹھایا، میں نے تحریک منہاج القرآن کے فنڈ سے آّج تک ایک کپ چائے کا بھی نہیں پیا۔ جب لیڈر ایسا کردار دکھائیں گے تو قوم اعتبار کرے گی اور پاکستان چند سالوں میں ملائیشیا اور سنگاپور بن سکتا ہے
اب تک کے حالات کے تجزیہ کے بعد پاکستان میں موجودہ سیاسی اور جمہوری صورتِ حال پر کچھ گفتگو کرتا ہوں۔
(میں ذاتی طور پر ان تمام ٹیلی ویژن چینلوں، اخبارات اور کالم نگاروں کا شکریہ اداء کرتا ہوں جو صرف اللہ اور اس کے رسول (ص) کے لیے اور اس قوم کے لیے میرا آج کا پیغام عوام تک پہنچا رہے ہیں اور بڑے بڑے بکے ہوئے قلموں کے خلاف اپنے حسینی قلم سے مقابلہ کر رہے ہیں)
میں نے کیوں کہا تھا کہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ، میں آج بھی اس نعرے پر قائم ہوں، میں نے کہا تھا کہ میں سیاست کے خلاف نہیں بلکہ جو پاکستان میں موجودہ سیاست ہے وہ سیاست نہیں خباثت ہے، میں قائدِ اعظم کی سیاسی کا قائل ہوں۔ سیاست دین کا حصہ ہے لیکن جس سیاست کے ذریعے پاکستان کی ریاست بنی وہ یہ سیاست نہیں ہے۔ یہ کرپٹ کلچر ہے۔ آپ دیکھیے لیڈروں کے رویے غیر جمہوری ہیں ان کے ذریعے ملک میں جمہوریت کیسے آئے گی۔
اس کے بارے چند مثالیں سن لیں کہ ان کے رویے کیسے غیر جمہوری ہیں، آپ نے سندھ کی صوبائی اسمبلی کو دیکھا ؟ وہ آخری دن بھی کرپشن کے بہتے ہوئے دریا میں نہاتے رہے، انہوں نے یکم جولائی 2011 سے اپنی تنخواہوں میں اضافہ کر لیا۔ ایک اسمبلی کے وزیرِ اعلیٰ نے مرتے دم تک 70 فیصد مراعات کا قانون بنوا لیا۔ (یہ اس ملک کی جمہوریت ہے)۔
آخری دنوں میں 7 بل منظور ہوئے لیکن ان میں سے کوئی بھی بل عوام کے حق میں نہیں تھا۔ کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے بھی کوئی بل مںظور کرے۔ یہ جمہوریت ہے۔
ایک اور صوبائی اسمبلی ہے، میں نام لے رہا ہوں، اگر میری بات غلط ہو تو صدرِ پاکستان اس بات کی تردید کر دے، بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ہر ایک MPA کو 5 سالوں میں 100 کروڑ روپے سے لے کر 150 کروڑ روپے تک ترقیاتی فنڈ کے نام پر رشوت دی گئی۔ اگر میری یہ بات غلط ہے تو صدرِ پاکستان خود اس کی تردید کر دیں۔ مجھے یہ بات بلوچستان اسمبلی کے ممبران نے خود بتائی ہے ۔ یہ جمہوریت ہے ۔ بلوچستان کی اسمبلی کے تمام اراکین 5 سالوں میں یا وزیر رہے یا مشیر رہے، صرف ایک بندہ اس عہدے سے محروم رہا وہ اپوازیشن لیڈر تھا(اس کا درجہ بھی وزیر کا رہا)
اب پنجاب کی اسمبلی کی طرف آجائیں، یہاں کے لوگ کرپشن کرنے میں ماہر ہیں۔ پنجاب کابینہ میں آپ لوگ صرف 1 وزیر کے نام کے علاوہ کسی اور کا نام جانتے ہیں ؟؟؟
صرف ایک وزیر ہے جس کا نام دنیا اور اخبارات جانتے ہیں، اس کے علاوہ کسی کو کسی وزیر کا نام نہیں معلوم ۔ اس سے زیادہ بدترین آمریت کہاں ہو گی ؟؟؟؟ جہاں وزیرِ اعلیٰ کے پاس 18 وزارتیں اور محکمے ہیں
اِدھر جنگلہ بسوں کے پراجیکٹ چل رہے ہیں جہاں عوام کے اربوں روپے خرچ کر دیے گئے ہیں، وہ بسیں کچھ سالوں میں ناکارہ ہو کر رہ جائیں گی۔ کاش یہ اربوں روپے عوام کو روٹی فراہم کرنے کے لیے خرچے جاتے
دوسری طرف وفاقی حکومت کا کارنامہ دیکھیں، انہوں نے فیصلہ کیا کہ حکومت کے آخری دن تمام بینک کھلے رہیں گے (تاکہ وہ آخری دن بھی بینکوں میں لوٹ مار کر سکیں) اور الیکشن کمیشن نے اس کام کو جائز قرار دیا۔
اور اس ملک کے وزیر اعظم 8 ماہ میں اپنے حلقہ میں 37 ارب روپے خرچ کر چکے ہیں۔ حکومت کے آخری دنوں میں گریڈ 22 کے افسروں کو پلاٹ عطا کیے گئے
اسمبلیاں ختم ہو گئیں، کابینہ ختم ہو گئی لیکن ابھی تک نگران سیٹ اپ کا فیصلہ نہ ہو سکا۔
یہ فیصلہ اس لیے نہیں ہو رہا تاکہ آخری 9 دن مزید لوٹ مار کا بازار جاری رہ سکے۔ یہ الیکشن کمیشن اندھا بھی ہے، گونگا بھی ہے اور بہرہ بھی ہے اور ساری کرپشن میں برابر کا شریک بھی ہے
ایک اہم بات، آپکو اور پوری قوم کو بتانا چاہتا ہوں، یہ نگران حکومت کو ڈرامہ یہ صرف پاکستان میں ہوتا ہے، دنیا میں کسی بڑی جمہوریت میں نگران حکومتیں نہیں بنتی۔ وہاں نظام ہوتے ہیں، ادارے ہوتے ہیں۔
امریکہ میں الیکشن ہوئے تو حکومت وقت کراتی ہے، برطانیہ میں الیکشن ہوئے تو موجودہ وزیر اعظم نے کروائے اور خود الیکشن ہار گیا (انہوں نے اپنے نظام میں اتنی شفافیت قائم کر لی ہے کہ دھاندلی نہیں ہو تی) اسی طرح فرانس میں بھی حکومتِ وقت ہی الیکشن کرواتی ہے۔ اسی طرح جرمنی، ایران، ملائیشیا اور انڈیا میں بھی کبھی نگران حکومت نہیں بنتی خود الیکشن کرواتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن اتنا پاور فل ہوتا ہے کہ حکومت کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ دخل اندازی کر سکے۔مختلف معاملات میں امریکہ جانے والوں ان سے کوئی اچھی چیز ہی سیکھ لو
دنیا میں صرف 4 ممالک ایسے ہیں جہاں نگران حکومت قائم ہوتی ہے وہ روانڈا، پولینڈ، کوسوو اور نیپال ہیں۔ سوچیں ان نا اہل حکمرانوں نے پاکستان کو کن ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے
جو اس نظام کے خلاف بات کرتا ہے اُسے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی خاص ایجنڈے کے ساتھ آیا ہے، ظالموں مجھے دکھاؤ تو سہی کونسی جمہوریت کی بات کرتے ہو، دنیا تمھارا مذاق اُڑا رہی ہے۔
پورا مُلک بد امنی کا شکار ہے، کوئی طبقہ محفوظ نہیں، بلوچستان میں لوگ لاشیں رکھ کر دھرنا دیتے ہیں، لاہور میں مسیحیوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ کیا اس لیے قائد اعظم نے پاکستان بنایا تھا ؟؟؟؟؟
تمام ادارے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔










